تاریخ ساز لوگ | Tarikh Saz Log | Nazir Laghari
SKU: 27866291962

تاریخ ساز لوگ | Tarikh Saz Log | Nazir Laghari

Sale price$360.00 Regular price$400.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 8 - Jul 13

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

تاریخ ساز لوگ | Tarikh Saz Log | Nazir Laghari() : 456 ( ) : 43 41 1986 1987 1990 2005 45 12 2 32 () () 1959 1964 1965 ( ) 1965 1965 **

تاریخ ساز لوگ (انٹرویوز)
مصنف | نذیر لغاری
صفحات: 456 ( بڑا سائز)
’تاریخ ساز لوگ‘
ریویو: لیاقت علی ایڈووکیٹ
نذیر لغاری گذشتہ چار دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔’ تاریخ ساز لوگ‘ ان انٹرویوز پر مشتمل ہے جو انھوں نے تیس سال قبل سیاست دانوں اور ماہرین قانون سے لئے تھے اور یہ سب ماہنانہ ’اخبار جہاں‘ میں چھپے تھے۔اس کتاب میں دو سیاست دانوں ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں ان کے دو تاثراتی مضامین شامل ہیں جو ان دونوں سے نذیر لغاری کی ملاقاتوں اور گفتگو پر مشتمل ہیں جب کہ 43 سیاست دانوں سے انھوں نے براہ راست انٹرویوز لیے تھے۔ خان عبدالولی خان سے شاہ محمد امروٹی تک 41 انٹرویوز 1986 اور1987کے درمیان لئے گئے تھے جب کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دوسرا انٹرویو 1990اورمیاں محمد نواز شریف کا انٹرویو 2005 میں لیا گیا تھا۔جن 45سیاست دانوں کے انٹر ویوز اس مجموعہ میں شامل ہیں ان میں سے12سیاست دان اور 2 ماہرین قانون بقید حیات ہیں جب کہ 32شخصیات اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔’ تاریخ ساز لوگ ‘میں شامل دو کے سوا باقی تمام انٹر ویو ز جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں لئے گئے اور اسی دور میں شایع ہوئے تھے۔
نذیر لغاری بھٹو سے متاثر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ’ پاکستان کی سیاست میں عوام کا ڈکشن ذوالفقار علی بھٹو نے رائج کیا تھا ۔ اُن کی گفتگو میں دریائے سندھ کا بہاو تھا‘۔ وہ بھٹو کی شخصیت اور طرز سیاست کے مداح ہیں ۔محمد حنیف رامے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں پنجاب کے وزیر اعلی تھے۔ و ہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی رہے۔جب بھٹو حکومت کا ہر طرف طوطی بول رہا تھا عین اس وقت حنیف رامے پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیر پگاڑا کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ انھوں نے مساوات پارٹی بھی بنائی تھی۔ پنجاب کی تاریخ کے حوالے سے انھوں نے ’پنجاب کا مقدمہ ‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’ میں مارکسسٹ نہیں ہوں،میں نے دوسرے معاشرتی علوم کی طرح مارکس ازم کا فلسفہ پڑھا ہے لیکن میں اپنے لئے روشنی کا منبع قرآن عظیم کو سمجھتا ہوں‘۔ ان کے نزدیک’ جب تک پنجاب اپنے حقوق کی خاطر آوازنہیں اٹھاتا اور انھیں حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اسے چھوٹے صوبوں کے حقوق کا احساس نہیں ہوگا ۔ جب تک پنجابی زبان، پنجابی ثقافت اور پنجابی عوام کے حقوق کی بات نہیں ہوگی اس وقت تک دوسرے صوبوں سے ابھرنے والی اس قسم کی آواز کو پنجاب والے پاکستانی ثقافت، اردو زبان، اور پاکستان کے خلاف تصور کریں گے‘۔
عبدالحفیظ پیرز ادہ کا شمار پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ وہ بھٹو کابینہ میں وزیر تعلیم اور اطلاعات و نشریات کے وزیر رہے تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ سے وزارت اطلاعات لے کر بھٹو نے مولانا کوثر نیازی کو دی تھی جو نذیر لغاری کے نزدیک بھٹو کی ’ہمالیائی غلطی‘ تھی کیونکہ وزارت اطلاعات کے ذریعے مولانا نے جو ’پاکستان کا بیانیہ تشکیل دیا وہ پاکستان کے تاریخی تقاضوں کے بالکل بر عکس تھا‘۔ نذیر لغاری عبدالحفیظ پیرزادہ سے انٹرویو کے تعارف میں کہتے ہیں کہ ’میں اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف اور اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے بھٹو کے عدالتی قتل کے پس پشت بہت سے دوسرے کرداروں کی طرح عبدالحفیظ پیرزادہ کا کردار بھی نظر آتا ہے‘۔ نذیر لغاری کہتے ہیں کہ بھٹو کی سزائے موت کے خلاف کراچی کے وکیل شفیع محمدی نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی وساطت سے شریعت کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی درخواست کی تھی ۔ عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی لیکن دوسرے روز عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت میں پیش ہوکر یہ درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے شفیع محمدی پٹیشن خارج کردی تھی۔
ائیر مارشل (ر) اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں جب جنرل ضیا ء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تھا تو پاکستان قومی اتحاد کی پوری قیادت کو ’حفاظتی تحویل‘ لے لیا گیا تھا لیکن جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کو مارشل لا حکام نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ اس ایک واقعہ سے ان کے فوج کے ساتھ قریبی تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مشیر پیش امام کا شمار ائیر مارشل اصغر خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا ۔ وہ تحریک استقلال کے جنر ل سیکرٹری بھی رہے۔ اپنے انٹرویو میں ائیر مارشل اصغر خان کے بارے میں کہتے ہیں ’تعمیر ی سیاست کرنا ائیر مارشل (ر) اصغر خان کے مزاج میں ہی شامل نہیں ہے۔ان میں کسی کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔وہ جب بھی کسی چیز کو بنتا دیکھتے ہیں اس سے الگ ہونے میں وہ پہل کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ الگ سے اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں ایسے لوگوں کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے جو دوسروں سے بات بھی نہ کرنا چاہتے ہوں‘۔
مولانا فضل الرحمان کا شمار ایسی سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ ایوان اقتدار کے گرد و نواح میں موجود رہتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوکر اقتدار کے مزے لوٹتے اور اقتدار میں رہ کر اپوزیشن کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’اب پوری قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ قیام پاکستان کے وہ مقاصد ہی نہیں تھے جن کا قوم سے وعدہ کیا گیا تھااور کہیں قیام پاکستان کے در پردہ مقاصد یہ تو نہیں تھے جن کی اب تکمیل کی ہورہی ہے ‘۔
میر غوث بخش نزنجو پاکستان میں قوم پرست سیاست کا اہم نام تھا ۔ وہ سیاسی افہام وتفہیم سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلوچستان کے مسائل پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ اپنے تیس سال قبل دیئے گئے انٹرویومیں انھوں نے بلوچستان کی سیاست بارے جو بات کہی تھی وہ آج حرف بحرف درست ثابت ہورہی ہے ۔ کہتے ہیں ’بلوچستان میں پہلے مرکز گریزی کی حد تک اختلافات تھے لیکن اب بات مملکت گریزی کی طرف جارہی ہے۔بات یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری اور عطا ء اللہ مینگل ہمارے حکمرانوں کے رویہ سے اس حد تک مایوس ہوگئے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہ اس ملک میں وفاقی وحدتوں اور قومیتوں کو حقوق ملیں گے اورنہ ہی جمہوریت آے گی‘۔
معراج محمد خان پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کا اہم ترین حوالہ تھے۔ وہ پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے کہ کہتے ہیں کہ ’جماعت اسلامی نے پی۔این۔اے کی تحریک کو فوج کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اسلام کے مقدس نام پر پورے ملک کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا۔یہ بات پی ۔این۔اے کے مقاصد میں شامل نہیں تھی بلکہ پی۔این۔ائے کے آڑ میں کھل کھیلنے والوں کے مقاصد میں شامل تھی۔پی۔این۔ائے کی تحریک میں قربانیاں دینے والے برے نہیں تھے لیکن مفاد پرستوں نے عوام کے خون کا سودا کیا ‘۔
کے۔ایچ۔ خورشید قائد اعظم کے سیکرٹری تھے۔ کشمیری نژاد کے۔ایچ خورشید پاکستان کے زیر انتظام کشمیر 1959-1964صدر بنے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ 1965 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جو کاروائی ( ان کا اشارہ آپریشن جبرالٹر) ہوئی تھی اس کا کشمیر کی آزادی سے کم اور جنرل ایوب خان کو ناکام بنانا زیادہ تھا۔ اور پھر ایوب خان نے تسلیم کیا تھا کہ 1965 کی جنگ انھیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش تھی۔1965 میں جب حکومت نے ’مجاہدین‘ بھیجے تھے تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی ‘۔
تیس سال قبل لئے گئے یہ انٹر ویو زپڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ زمانے کی اس تیز حرکت میں سیاسی،سماجی،اقتصادی اور سائنسی ارتقا میں ہم نے کوئی ایک بھی اہم اور قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا ۔ہماری ریاست کے طاقتور عناصر اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو ایک طاقتور اور آمرانہ مرکزیت کے ذریعے متحد رکھا جاسکتا ہے۔ حکمران اشرافیہ کے ذہن میں یہ بے بنیاد تصور جاگزیں ہوچکا ہے کہ یہ ملک کانچ کا بنا ہوا ایسا گھر ہے جو ایک پتھر لگتے ہی دھڑام سے ٹوٹ کر زمین بوس ہوجائے گا ۔ حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک کے عوام میں سیاسی شعور مفقود ہے اور سیاسی عمل سے وہ بے بہر ہ ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کے عوام ایک جمہوری اور رضاکارانہ وفاق کے اندر رہنے کے صلاحیت اور اہلیت نہیں رکھتے ہیں،اس لئے ضروری ہے کہ عوام سے ان کی زبانیں،تاریخ و ثقافت، آزادانہ طرز فکر وعمل اور ان کی جمہوری خواہشات چھین لی جائیں تاکہ وہ آمریت کے زیر سایہ مجہول زندگی گذاریں اور ریاست پر قابض اشرافیہ کو کسی طور چیلنج نہ کریں۔عوام کو بار بار باور کرایا جائے کہ وہ ہزار ہا برس سے غلام ہیں اور وہ نوآبادیاتی ریاستی اور سماجی ڈھانچے کے اندر ہی زندہ رہ سکتے ہیں ۔ گذشتہ ستر سالوں میں اس ملک کے عوا م کی سیاسی و سماجی ترقی اور اپنی تاریخ و ثقافت سے جڑنے کے عمل کی راہ میں بے پنا ہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں ۔ عوام کی ترقی کی و خوشحالی کی امنگوں کو کرپشن کی چکی میں پیس دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے دیو نے ان کے حوصلوں کو پست کر دیا ہے ۔**
Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 27866291962

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.7 ★★★★★
Based on 1684 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
J
Verified Purchase
John McNamara
Omaha, US
★★★★★ 5
Lightweight and mobile.
Color: Gray, Size: 72" wide, 66" Tall
These are a nice and clean looking solution to divide or conceal spaces. They are also very lightweight and easy to store and move around.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 3, 2024
J
Verified Purchase
Jen
Battle Creek, US
★★★★★ 5
Great little screen.
Color: Steel, Color: Steel
Great divider. Provides just enough privacy from my colleague in the office across from me (and vice versa). Easy to set up and sturdy. Worth the price IMO.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 17, 2026
A
Verified Purchase
Amazon Customer
Fort Morgan, US
★★★★★ 5
Perfect Divider Wall!
Color: Iron, Color: Iron
This Divider Wall is perfect for creating a private and organized space! The sleek black design blends seamlessly into my room, and the build quality is excellent. It’s lightweight yet sturdy, standing firmly on the floor without wobbling. I use it to separate my desk area from my bed, and it makes the room feel more functional and professional. Highly recommended for anyone looking to divide their space efficiently while maintaining a modern aesthetic!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 16, 2025
R
Verified Purchase
Rose
Louisville, US
★★★★★ 3
N/A
Color: Midnight
I like it and it serves it purpose but I don’t think it’s worth $125
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 2, 2025
M
Verified Purchase
Mollieisms
West Palm Beach, US
★★★★★ 4
Great for separation and stands on its on without issues.
Color: Midnight
Nice panel! But ... if you plan to use as a bulletin board, not great. We are going to place styrofoam in between to see if can get things to stay in place. We homeschool and it keeps our grands from distracting each other.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 11, 2026

recommand products